14595781_10154693100174866_2546751800783523314_n

مستقبل جمہوریت میں ہے‘ غیرجمہوری کہنے والے خام خیالی نکال دیں: رضا ربانی

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وفاق اور صوبوں میں مضبوط تعلقات کار کے لئے وزرائے اعلی اور ارکان قومی اسمبلی کو سینٹ میں بات کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی ہے۔ قومی اسمبلی میں صرف پنجاب کے ارکان سینٹ کے کل ارکان سے زیادہ ہیں اس کے باعث مشترکہ اجلاس میں وفاق کا مطلب ہی ختم ہو جاتا ہے ۔پیرکو اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمینٹری سروسز(پیپس) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو غیرجمہوری کہنے والے خام خیالی ذہن سے نکال دیں، پارلیمنٹ کو مضبوط اور مستحکم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں ریاستی اداروں میں پارلیمان کو عوام سے الگ تھلگ رکھا گیا ۔ 18ویں ترمیم کے بعد پاکستان مکمل طور پر وفاق ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں صرف پنجاب کے اراکین سینیٹ کے کل ارکان سے زیادہ ہیں۔ قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھیں تو سینیٹ کی نشستیں بھی بڑھنی چاہئیں۔ سینیٹ کا قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے کوئی رابطہ نہیں۔چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے مزید کہا کہ1973 کا ائین بنانے والے اپنی قبروں میں پریشان ہوں گے ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سینٹ کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے ۔ارکان سینٹ کی تعداد صرف 104 ہے۔مشترکہ اجلاس میں سینیٹرز کے ووٹ کم ہو جاتے ہیںقومی اسمبلی مین صرف پنجاب کے ارکان سینٹ کے کل ارکان سے زیادہ ہیںاس کے باعث مشترکہ اجلاس میں وفاق کا مطلب ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ہم ایک شرمناک وفاقیت کے ساتھ چل رہے ہیں۔سینٹ کی موجودہ صورتحال وفاق کی نفی ہے ۔ رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت مین ہے۔پاکستان کے مستقبل کو غیر جمہوری کہنے والے خام خیالی ذہن سے نکال دیں ۔پارلیمان کو مصبوط اور مستحکم کرنا ضروری ہے ۔پاکستان میں ریاستی اداروں نے پارلیمان کو عوام سے الگ تھلگ رکھا۔اٹھاروین ترمیم کے بعد پاکستان مکمل طور پر وفاقی ہو گیا ہے ۔سینٹ کو بجٹ کی منطوری کا اختیار دیا جائے ۔پارلیمنت کے مشترکہ اجلاس میں سینٹ کو قومی اسمبلی کے برابر ووٹ کا اختیار ہو۔قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھیں تو سینٹ کی نشستیں بھی بڑھنی چاہیے۔ سینٹ کا قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے کوئی رابطہ نہیں
ارکان قومی اسمبلی اور وزرائے اعلی کو سینٹ میں بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔سینٹ کو الگ کرکے وفاق کو نہیں چلایا جا سکتا۔ ضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت مین ہے ۔پاکستان کے مستقبل کو غیر جمہوری کہنے والے خام خیالی ذہن سے نکال دیں۔پارلیمان کو مصبوط اور مستحکم کرنا ضروری ہے ۔پاکستان میں ریاستی اداروں نے پارلیمان کو عوام سے الگ تھلگ رکھااٹھاروین ترمیم کے بعد پاکستان مکمل طور پر وفاقی ہو گیا ہے ۔سینٹ کو بجٹ کی منطوری کا اختیار دیا جائے ۔پارلیمنت کے مشترکہ اجلاس میں سینٹ کو قومی اسمبلی کے برابر ووٹ کا اختیار ہو۔قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھیں تو سینٹ کی نشستیں بھی بڑھنی چاہیے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s