cu6oc3twyaaysoa

چار مطالبات پورے نہ ہوئے تو لانگ مارچ کریں گے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔
چیئرمین بلاول کے مطالبات یہ تھے
  1. سابق صدر آصف زرداری کے دور میں اقتصادی راہداری پر ہونے والی اے پی سی کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہیے۔
  2. پاناما لیکس پر پیپلزپارٹی کے بل کو منظور کیا جائے۔
  3. فوری طور پر ملک میں مستقل وزیرخارجہ کو تعینات کیا جائے۔
  4. پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔

 

cu8m4i9xyaaqkyo
کارساز میں سلام شہداء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے چار مطالبات پیش کئے، اوران کو نہ ماننے کی صورت میں 27 دسمبر کو وہ گڑھی خدا بخش میں لانگ مارچ کااعلان کریں گے ۔ بلاول کے مطالبات یہ تھے: ایک۔ فوری طور پر وزیر خارجہ مقرر کیا جائے۔ دو۔ پاناما لیکس پر پیپلز پارٹی کا بل پارلیمنٹ منظور کرے۔ تین۔ پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیٹی دوبارہ بنائی جائے۔ چار۔ سی پیک سے متعلق آصف زرداری کی قرارداد کو منظور کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر عوام ان کا ساتھ دیں تو وہ انھیں دہشت گردوں سے آزادی دلائیں گے۔
پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کمزور ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سی پیک متنازع بنتا جا رہا ہے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے پارلیمان کو بے مقصد ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو وفاق سے دور کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاست دان آپس میں لڑ رہے ہیں اور مودی مسکرا رہا ہے۔‘
بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم نواز شریف ’نااہل‘ ہیں۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’2018 میں ہم سب کراچی میں بسنت منائیں گے، پورے کراچی میں تیر چلے گا۔‘
ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر بلاول بھٹو نے کہا کہ جو لوگ سندھ کی تقسیم کی بات کرتے تھے آج وہ خود تقسیم ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند برس پہلے انھوں نے کہا تھا کہ ’فون سے اڑنے والی پتنگ کو کاٹ دیا جائے گا۔‘
بلاول بھٹو نے بتایا کہ وہ اپنی جماعت میں تبدیلی لا رہے ہیں اور اگر لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تو وہ ملک میں بھی تبدیلی لائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے پاکستان کو قائد کی سوچ کے مطابق بنائیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا جتنی بھی سازشیں ہوتی رہیں لیاری پی پی پی کا قلعہ ہی رہے گا۔
انھوں نے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے روزگار چھین لیتے ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے پرجوش خطابات نے جیالوں کا لہو گرمادیا ، پاکستان کھپے کے نعرے خود بھی لگائے اور کارکنوں سے بھی لگوائے، مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پر لفظوں کے تیر چلائے اور اعلان کیا کہ بی بی کا بیٹا میدان میں آگیا ہے، تیر کمان سے نکل چکا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بچکانہ اپوزیشن سے نواز شریف کو مضبوط کیا جارہا ہے، شیر کے شکار کا ٹھیکا ایک کھلاڑی کو دے دیا گیا مگر جیالے مایوس نہ ہوں، آپ ساتھ دیں گے تو پورے پاکستان کو بدل دیں گے، آج وہ پتنگ کٹ گئی جو سندھ کی تقسیم چاہتی تھی ۔
بلاول کا کہنا تھا کہ جہاں ظلم کے خلاف جنگ ہو گی وہاں کربلا کا میدان سجے گا، ہم زبان اور برادری کی سیاست سے آزادی چاہتے ہیں،سانحہ کارساز پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہے،18اکتوبر 2007 کو حملہ عوام کی امیدوں پر کیا گیا،آج ہم شہداکو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کراچی کے عوام کیلئے امید کا چراغ بن کر آئی تھیں، بی بی کو شہید کرکے وقت کے یزید سمجھتے تھےانہیں للکارنے والا کوئی نہیں ہوگا،بی بی کا بیٹا زندہ ہے، بی بی کا آصف زندہ ہے۔
لیاری میں بلاول نے جیالوں سے پُرجوش خطاب کرتے ہوئے جئے بھٹو، ذندہ ہے بی بی ذندہ ہے اور پی پی کے حق میں نعرے بھی لگوائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری کراچی کی جان ہے، لیاری کے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت لیاری کے امن کو تباہ کیا گیا، لیاری کے بے گناہ نوجوان قتل کئے گئے۔ بلاول کا مزید کہنا تھا کہ لیاری کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیاری والوں نے ہمیشہ بھٹو اور میری ماں کا ساتھ دیا۔ بلاول نے کہا کہ لیاری والوں نے کبھی مایوس نہیں کیا اس لئے میں بھی آپ کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں غریبوں کا خیال رکھنا ہو گا، ہم اب تک بھٹو کے خوابوں کو مکمل نہیں کر سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، تیر کمان سے نکل گیا ہے، بھٹو میدان میں آ گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا پیپلز پارٹی اور سندھ میں تبدیلی لا رہا ہوں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ لیاری کے لوگوں نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں، لیاری کے لوگوں نے آمروں، دہشت گردوں کیخلاف لڑائی کی، لیاری محنت کشوں کا علاقہ ہے۔ بلاول بھٹو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میری نئی ٹیم تعلیم، صحت، انصاف پر بہتر کام کرے گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے تھے لیاری کے حالات خراب کر کے پیپلز پارٹی کو ختم کر دیں گے، لیاری کی عوام نے سب کچھ غلط ثابت کر دیا ہے، لوگوں کی تعداد بتا رہی ہے لیاری پی پی پی کا قلعہ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s